تجسس کی ممانعت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے وہ لوگو! جو زبان سے ایمان لائے ہو، ابھی ایمان جن کے دلوں میں داخل نہیں ہوسکا ہے، مسلمانوں کی غیبت مت کرو اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کے پیچھے نہ پڑو، کیوں کہ جو کوئی ان کے چھپے عیبوں کے پیچھے پڑے گا تو اللہ بھی اس کے مخفی عیبوں کے پیچھے پڑ جائے گا، اور اللہ جس کے چھپے عیبوں کے پیچھے پڑ جائے گا اس کو وہ اپنے گھر میں رسوا کردے گا“۔ (ابوداود)
اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے کی انتہائی اہم اور بنیادی خامیوں کی نشاندہی فرمائی ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے اور ان سے بچنے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی، ہر محلے اور مجلس میں جب لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو دوسرے لوگوں کی، جو ان میں موجود نہیں ہیں، ان کی غیبتیں اور اداروں کی غیبتیں اور ان کے عیب ڈھونڈ کر نکالے جاتے ہیں، ہم غور کریں کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے بندوں سے کیا مطالبہ کرتا ہے:

”اے ایمان والو! بہت بدگمانیوں سے بچو، یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں، اور سراغ مت لگایا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم تو اس کو گھن سے کھائیں گے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا بہت مہربان ہے“۔ (الحجرات ۔ ۱۲)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی غیبت اور ان کے عیوب اور ان کی کمزوریوں کو تلاش کرنا اور ان کی تشہیر کرنا اور ان میں دلچسپی لینا دراصل ایک منافقانہ طرزعمل ہے، یہ طرز عمل وہی شخص اختیار کرتا ہے جو ایمان کی لذت سے نا آشنا ہو، یعنی صرف زبان سے مسلمان ہونے کا دعویدار ہو اور اس کا دل ابھی ایمان کی کیفیت سے بالکل خالی ہو۔

قرآن مجید اور احادیث میں بے شمار جگہ ان معاشرتی برائیوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے، کسی کی برائی کرنے اور اس کے عیب تلاش کرنے سے پہلے اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو ہم ان خطرناک برائیوں سے انشاء اللہ باز آجائیں گے، شاعر نے اس کی ترجمانی کس خوبصورت انداز میں کی ہے:

تھے جو اپنی برائی سے بے خبر
رہے اور اوروں کے ڈھونڈتے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر
تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
English translation
Abū Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: "O you who have professed faith with your tongues, while faith has not yet entered your hearts! Do not backbite the Muslims, and do not go after their hidden faults; for whoever pursues their concealed faults, Allah will pursue his hidden faults, and whomever's concealed faults Allah pursues, He will disgrace him within his own house." (Abu Dawud)

In this blessed hadith the Messenger of Allah ﷺ has pointed out one of the most important and fundamental flaws of society — one that is very common among us and which people make no effort to avoid. In every neighbourhood and gathering, when people come together, the faults of others who are not even present — and of institutions — are dug out and exposed. Let us reflect on what Allah Most High demands of His servants in the Qur'an:

"O you who believe! Avoid much suspicion; indeed, some suspicion is a sin. And do not spy, nor let any of you backbite another. Would any of you like to eat the flesh of his dead brother? You would detest it. And fear Allah; indeed Allah is Ever-Accepting of repentance, Most Merciful." (Al-Hujurat: 12)

This hadith shows that to seek out the faults, defects, and weaknesses of Muslims, to publicise them, and to take interest in them is in reality the conduct of a hypocrite. Only that person adopts such behaviour who is a stranger to the sweetness of faith — that is, one who merely claims to be a Muslim with his tongue while his heart is still entirely empty of the reality of faith.

The Qur'an and the ahadith urge us in countless places to guard against these social evils. Before criticising someone and searching out his faults, if we would only look within our own collar, we would — God willing — desist from these dangerous evils. How beautifully a poet has expressed this: those who were heedless of their own faults kept searching out the faults and merits of others; but once one's gaze fell upon one's own faults, no one remained bad in one's sight.
View original image
تجسس کی ممانعت