سید الاستغفار

اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُكَ وَ اَنَا عَلٰی عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ فَاِنَّه لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"افضل استغفار(سب سے اعلیٰ استغفار)یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کرے:﴿اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُكَ وَ اَنَا عَلٰی عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ فَاِنَّه لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ﴾۔(اے اللہ! تو ہی میرا پروردگار ہے،تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں،میں تیرے عہد پر ہوں(یعنی تیرے میثاق پر قائم ہوں)اور تیرے وعدے پر ہوں(یعنی تو نے حشر وغیرہ کے بارے میں جو وعدہ کیا ہے اس پر یقین کامل رکھتا ہوں)میں اپنی طاقت کے بقدر اس برائی(یعنی گناہ)سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس میں مبتلا ہوا،میں تیری نعمتوں کا جو تو نے مجھے عنایت فرمائیں اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں،پس تو مجھے بخش دے،کیونکہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں بخشتا)۔"پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"جو شخص ان کلمات کو اخلاص کے ساتھ دن میں ان کے معنی پر یقین رکھ کر پڑھے اور پھر اسی دن شام سے پہلے مرجائے تو وہ جنتیوں میں سے ہے،اور جو شخص ان کلمات کو اخلاص کے ساتھ رات میں ان کے معنی پر یقین رکھ کر پڑھے اور پھر اسی رات صبح ہونے سے پہلے مرجائے تو وہ جنتیوں میں سے ہے۔" (بخاری)
استغفار کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی کمزوری اور بندگی کا اعتراف کرے،اپنی کوتاہیوں اور اپنے جرائم کو تسلیم کرے اور اس کی بڑائی کا اقرار کرے کہ اس کے سامنے دل سے جھک جائے اور سچے دل سے معافی مانگ لے،اس استغفار کی اس غیر معمولی فضیلت کا راز بظاہر یہی ہے کہ اس میں یہ تمام چیزیں پوری طرح موجود ہیں اور اس کے ایک ایک لفظ میں عبدیت کی روح بھری ہوئی ہے۔

"عہد"سے مراد بعض علماء کے نزدیک روز ازل کا عہد و پیمان اور"وعد"سے مراد اسلام کی تعلیمات کو ماننے اور ان پر چلنے کا وعدہ ہے اور اس میں بھی"ما استطعت"کہہ کر اپنی کمزوریوں کا اقرار ہے کہ اے پروردگار تیرے حکموں کی پوری پوری پابندی تو میں کیا کرسکتا ہوں،ہاں جہاں تک مجھ سے ہوسکے گا میں تیرے وعدے پر قائم رہوں گا،حق یہ ہے کہ جس صاحب ایمان بندے کو وہ معرفت و بصیرت ہو جس کے ذریعہ وہ اپنی اور اپنے اعمال کی حقیقت کو سمجھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت اور اس کے حقوق کو بھی کچھ کچھ جانتا ہو تو وہ اپنے کو صرف قصوروار اور گناہ گار اور خیر و بھلائی کے معاملہ میں بالکل مفلس اور تہی دامن محسوس کرے گا اور پھر اس کے دل کی آواز اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں اس کی التجا یہی ہوگی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائے ہوئے اس استغفار میں محسوس ہوتی ہے،انہی تمام خوبیوں کی وجہ سے اس کا نام سید الاستغفار ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث تبلیغ کیے جانے کے بعد آپ پر ایمان رکھنے والے ہر امتی کو چاہیے کہ وہ اس کا اہتمام کرے کہ ہر دن اور رات میں کم از کم ایک مرتبہ ضرور سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ استغفار کرلیا کرے،سید الاستغفار کا پورا فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان الفاظ کو کہتے وقت ان کے معنی کا خوب اچھی طرح دھیان ہو،نیت بالکل درست ہو،توجہ کامل اور دعا و استغفار کے آداب کی پوری رعایت ہو۔
English translation
Narrated by Shaddad bin Aws (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The best manner of seeking forgiveness (the highest istighfar) is that a servant should say before Allah: O Allah, You are my Lord; there is no god but You. You created me and I am Your servant, and I keep Your covenant and Your promise as far as I am able. I seek refuge in You from the evil I have done. I acknowledge before You Your favour upon me, and I acknowledge my sin; so forgive me my sins, for none forgives sins but You." Then the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever recites these words during the day with sincerity, believing in their meaning, and dies that same day before evening, is among the people of Paradise; and whoever recites these words with sincerity at night, believing in their meaning, and dies that same night before morning, is among the people of Paradise." (Bukhari)

The meaning of istighfar (seeking forgiveness) is that a servant acknowledges before Allah his own weakness and servitude, admits his shortcomings and misdeeds, affirms Allah's greatness, bows before Him from the heart, and asks pardon with a truthful heart. The secret of the extraordinary excellence of this particular istighfar is, evidently, that all these elements are fully present in it, and the spirit of servitude fills its every single word.

By "covenant" (‘ahd) some scholars mean the covenant and pledge of the primordial Day, and by "promise" (wa‘d) is meant the pledge to accept and follow the teachings of Islam; and in it too, by saying "as far as I am able" (ma istata‘tu), there is an admission of one's weakness — O Lord, how can I fully observe all Your commands? but as far as I am able I will hold to my pledge to You. The truth is that a believing servant who possesses the insight and understanding by which he grasps the reality of himself and of his deeds, and knows something of the greatness and majesty of Allah and of His rights, will feel himself to be nothing but guilty and sinful and utterly bankrupt and empty-handed in the matter of goodness. Then the cry of his heart and his plea before Allah will be exactly what is felt in this istighfar which the Messenger of Allah ﷺ taught. Because of all these merits it is named Sayyid al-Istighfar (the master of seeking forgiveness).

After this hadith of the Messenger of Allah ﷺ has been conveyed, every member of his Ummah who believes in him should make a point of sincerely offering this istighfar before Allah at least once every day and night. To gain the full benefit of Sayyid al-Istighfar it is necessary that, when saying these words, one be fully mindful of their meaning, that the intention be entirely correct, the attention complete, and the etiquette of supplication and seeking forgiveness fully observed.
View original image
سید الاستغفار