اسریٰ و معراج
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:۔ ''میرے پاس ایک براق لایا گیا جو لمبا سفید رنگ کا چوپایہ تھا اس کا قد گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا وہ اپنا قدم وہاں تک رکھتا تھا جہاں تک اس کی نظر پڑتی تھی، میں اس پر سوار ہوا یہاں تک کہ میں بیت المقدس تک پہنچ گیا، میں نے اس براق کو اس حلقہ سے باندھ دیا جس سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام باندھا کرتے تھے، پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر میں مسجد سے باہر آیا تو جبریل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن میں شراب اور ایک برتن میں دودھ لے کر آئے، میں نے دودھ کو لے لیا، جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کو اختیار کر لیا، پھر مجھے آسمان کی طرف لے جایا گیا، اور پہلے آسمان میں حضرت آدم علیہ السلام اور دوسرے آسمان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام اور تیسرے آسمان میں حضرت یوسف علیہ السلام اور چوتھے آسمان میں حضرت ادریس علیہ السلام اور پانچویں آسمان میں حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور سب نے مرحبا کہا اور ساتویں آسمان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ وہ بیت المعمور سے ٹیک لگائے ہوئے تشریف فرما تھے، اور یہ بھی بتایا کہ بیت المعمور میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو دوبارہ اس میں لوٹ کر نہیں آتے، پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، اچانک دیکھتا ہوں کہ اس کے پتے اتنے بڑے بڑے ہیں جیسے ہاتھی کے کان ہوں اور اس کے پھل اتنے بڑے بڑے ہیں جیسے مٹکے ہوں، جب سدرۃ المنتہیٰ کو اللہ کے حکم سے ڈھانپنے والی چیزوں نے ڈھانک لیا تو اس کا حال بدل گیا، اللہ کی کسی مخلوق میں اتنی طاقت نہیں کہ اس کے حسن کو بیان کر سکے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ان چیزوں کی وحی فرمائی جن کی وحی اس وقت فرمانا منظور تھا اور مجھ پر رات دن میں روزانہ پچاس نمازیں پڑھنا فرض کیا گیا، میں واپس اترا اور موسیٰ علیہ السلام پر گزر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا پچاس نمازیں فرض فرمائی ہیں، انہوں نے کہا واپس جائیے اپنے رب سے تخفیف کا سوال کیجیے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کی طاقت نہیں رکھ سکتی، اور میں بنی اسرائیل کو آزما چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں اپنے رب کی طرف واپس لوٹا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میری امت پر تخفیف فرما دیجیے، چنانچہ فرما دیا پانچ نمازیں کم فرما دیں، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا اور میں نے بتایا کہ پانچ نمازیں کم کر دی گئی ہیں، انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کی طاقت نہیں رکھ سکتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی طرف رجوع کیجیے اور تخفیف کا سوال کیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں بار بار واپس ہوتا رہا (کبھی موسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا کبھی بارگاہِ الٰہی میں حاضری دیتا) یہاں تک کہ پانچ نمازیں رہ گئیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! یہ روزانہ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، ہر نماز کے بدلے میں دس نمازوں کا ثواب ملے گا، لہٰذا یہ (ثواب میں) پچاس ہی ہیں، جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کرے گا پھر اسے نہ کرے گا تو اس کے لیے (محض ارادہ کی وجہ سے) ایک نیکی لکھ دی جائے گی، اور جس شخص نے ارادہ کرنے کے بعد عمل بھی کر لیا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی، اور جس شخص نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہ کیا تو کچھ بھی نہ لکھا جائے گا اور اگر اپنے ارادے کے مطابق عمل کر لیا تو ایک گناہ لکھا جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نیچے واپس آیا موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا اور انہیں بات بتا دی، انہوں نے کہا واپس جاؤ اپنے رب سے تخفیف کا سوال کرو، میں نے کہا میں بار بار اپنے رب کی بارگاہ میں مراجعت کرتا رہا ہوں یہاں تک کہ اب مجھے شرم آتی ہے''۔ (مسلم)
ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سب سے برگزیدہ بندے اور سب سے افضل پیغمبر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ختمِ نبوت کا تاج پہنایا اور ایسی بہت سی خصوصیات اور کمالات عطا فرمائے جو کسی اور کو عطا نہیں ہوئے، انہیں خصوصی انعامات میں سے ایک نعمت اسراء اور معراج کی نعمت ہے، جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاسراء اور سورہ النجم میں فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
''پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر کرایا، جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اس کو اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، بے شک اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے اور دیکھنے والا ہے''۔ (الاسراء ـ ۱)
یہ تو اسراء کا ذکر ہے، واضح رہے کہ مکہ سے مسجد اقصیٰ تک کا جو سفر ہے اس کو الاسراء کہا گیا ہے اور اس کے بعد حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عالمِ بالا کا سفر فرمایا اس کو معراج کہتے ہیں، اس سفر میں جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیقِ سفر رہے، لیکن ایک مقام وہ بھی آیا جب جبریل علیہ السلام نے بھی معذرت کر لی کہ حضور! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو مستثنیٰ کرنے کے بعد کسی بھی مخلوق کے لیے اب اور آگے قدم بڑھانے کی اجازت نہیں ہے، اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا۔
''بہکی نہیں ان کی نگاہ نہ حد سے بڑھی۔ انہوں نے اپنے رب (کی قدرت) کے بڑے بڑے نمونے دیکھے''۔ (النجم، ۱۷ـ۱۸)
''پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر کرایا، جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اس کو اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، بے شک اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے اور دیکھنے والا ہے''۔ (الاسراء ـ ۱)
یہ تو اسراء کا ذکر ہے، واضح رہے کہ مکہ سے مسجد اقصیٰ تک کا جو سفر ہے اس کو الاسراء کہا گیا ہے اور اس کے بعد حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عالمِ بالا کا سفر فرمایا اس کو معراج کہتے ہیں، اس سفر میں جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیقِ سفر رہے، لیکن ایک مقام وہ بھی آیا جب جبریل علیہ السلام نے بھی معذرت کر لی کہ حضور! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو مستثنیٰ کرنے کے بعد کسی بھی مخلوق کے لیے اب اور آگے قدم بڑھانے کی اجازت نہیں ہے، اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا۔
''بہکی نہیں ان کی نگاہ نہ حد سے بڑھی۔ انہوں نے اپنے رب (کی قدرت) کے بڑے بڑے نمونے دیکھے''۔ (النجم، ۱۷ـ۱۸)
English translation
Anas ibn Malik (RA) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "A Buraq was brought to me — a tall, white beast, larger than a donkey but smaller than a mule, which would place its hoof as far as its sight could reach. I mounted it until I reached Bayt al-Maqdis (Jerusalem). I tethered it to the ring to which the Prophets used to tie [their mounts], then I entered the mosque and prayed two rak'ahs. When I came out, Jibril (AS) came to me with a vessel of wine and a vessel of milk. I chose the milk, and Jibril (AS) said, 'You have chosen the natural way (fitrah).' Then I was taken up to the heaven. In the first heaven I met Adam (AS); in the second, 'Isa (AS) and Yahya (AS); in the third, Yusuf (AS); in the fourth, Idris (AS); in the fifth, Harun (AS); and in the sixth, Musa (AS); and they all welcomed me. In the seventh heaven I met Ibrahim (AS). Of him the Prophet ﷺ said that he was reclining against the Bayt al-Ma'mur, and he also said that seventy thousand angels enter the Bayt al-Ma'mur every day and never return to it again. Then I was taken to Sidrat al-Muntaha. Suddenly I saw that its leaves were like the ears of elephants and its fruits were as large as clay jars. When, by Allah's command, that which was to cover the Sidrat al-Muntaha covered it, its state was transformed, and none of Allah's creation has the power to describe its beauty. At that time Allah revealed to me what He willed to reveal, and fifty prayers a day and night were made obligatory upon me. I came back down and passed by Musa (AS), who asked, 'What has your Lord made obligatory upon your Ummah?' I said, 'He has made fifty prayers obligatory.' He said, 'Go back and ask your Lord for a reduction, for your Ummah will not be able to bear it; I have already tested the Children of Israel.' The Prophet ﷺ said: I returned to my Lord and said, 'O my Lord, lighten it for my Ummah,' and He reduced it by five. I came back to Musa (AS) and told him that five had been taken off, but he said, 'Your Ummah cannot bear even this; return to your Lord and ask for a reduction.' The Prophet ﷺ said: I kept going back and forth — at times to Musa (AS), at times presenting myself before my Lord — until five prayers remained. Allah said, 'O Muhammad, these are five prayers each day and night, and for each prayer there is the reward of ten; so these are fifty [in reward]. Whoever intends a good deed but does not do it, one good deed is recorded for him merely for the intention; and whoever intends it and then does it, ten good deeds are recorded for him. Whoever intends an evil deed but does not do it, nothing is recorded against him; and if he does it as he intended, one sin is recorded.' The Prophet ﷺ said: I came back down and reached Musa (AS) and told him, and he said, 'Go back to your Lord and ask for a reduction,' but I said, 'I have returned to my Lord so many times that now I feel too shy [to ask again].'" (Muslim)
Our Prophet Muhammad Mustafa ﷺ is the most favoured servant of Allah and the most excellent of all prophets. Allah crowned him with the Seal of Prophethood and granted him many special qualities and perfections that were given to no one else. Among these special favours is the blessing of the Isra and the Mi'raj, which Allah mentioned in Surah al-Isra and Surah an-Najm. Allah says:
"Glory be to the One who took His servant by night from the Sacred Mosque to the Farthest Mosque, whose surroundings We have blessed, so that We might show him some of Our signs. Indeed, He is the All-Hearing, the All-Seeing." (Al-Isra 17:1)
This is the mention of the Isra. It should be understood that the journey from Makkah to the Masjid al-Aqsa is called al-Isra, and the journey to the higher realms which the Prophet Muhammad Mustafa ﷺ made thereafter is called the Mi'raj. On this journey Jibril (AS) was the Prophet's ﷺ companion, but there came a point where even Jibril (AS) excused himself, saying, "O Master! Apart from your noble self, no creature is permitted to advance a single step further." Allah mentioned this thus:
"The sight did not swerve, nor did it exceed [the limit]. He certainly saw some of the greatest signs of his Lord." (An-Najm 53:17-18)
Our Prophet Muhammad Mustafa ﷺ is the most favoured servant of Allah and the most excellent of all prophets. Allah crowned him with the Seal of Prophethood and granted him many special qualities and perfections that were given to no one else. Among these special favours is the blessing of the Isra and the Mi'raj, which Allah mentioned in Surah al-Isra and Surah an-Najm. Allah says:
"Glory be to the One who took His servant by night from the Sacred Mosque to the Farthest Mosque, whose surroundings We have blessed, so that We might show him some of Our signs. Indeed, He is the All-Hearing, the All-Seeing." (Al-Isra 17:1)
This is the mention of the Isra. It should be understood that the journey from Makkah to the Masjid al-Aqsa is called al-Isra, and the journey to the higher realms which the Prophet Muhammad Mustafa ﷺ made thereafter is called the Mi'raj. On this journey Jibril (AS) was the Prophet's ﷺ companion, but there came a point where even Jibril (AS) excused himself, saying, "O Master! Apart from your noble self, no creature is permitted to advance a single step further." Allah mentioned this thus:
"The sight did not swerve, nor did it exceed [the limit]. He certainly saw some of the greatest signs of his Lord." (An-Najm 53:17-18)
View original image
https://hadith.ahadees.com/hadees/607 — Ahadees.com