برائیوں کو مٹانے کی جدوجہد نہ کرنا عذابِ الٰہی کو دعوت دینا ہے

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (ایک دن) فرمایا: لوگو! تم یہ آیت ''اے ایمان والو! تم اپنی جانوں کی فکر لازم پکڑو، جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ لوگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے'' پڑھتے ہو، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ''لوگ جب ظالم کو (یعنی ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں اور اس کے ہاتھوں کو نہ پکڑیں (یعنی ظلم سے نہ روکیں) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے''۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی)
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث مبارک میں قرآن مجید کے سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۱۰۵ کی تلاوت فرمائی اور بتایا کہ تم لوگ اس آیت کا مفہوم یہ سمجھتے ہو کہ جب انسان خود راہِ راست پر ہو تو اس کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ دوسروں کی گمراہی اور معصیت سے اسے کوئی اندیشہ ہے نہ اس سے اس کی بابت کوئی باز پرس ہوگی۔ یوں امتِ مسلمہ زمین میں شریعتِ الٰہیہ کے نفاذ کی ذمہ دار نہیں ہے، صرف اپنی ذات کی اصلاح کی مکلف ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مذکورہ حدیث بیان کر کے اس مفہوم کی تردید فرمائی ہے جس سے یہ واضح ہو کہ حتی الامکان بُرائی کو روکنا امت کی ذمہ داری اور ہر فرد فرد کا منصب ہے، جتنی اس کی قدرت رکھتے ہوں۔
ہاتھ یا زبان سے نہ روکنا اللہ تعالیٰ کے عذاب و غضب کو دعوت دینا ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آیت کا اصل مفہوم واضح فرما کر (بتایا کہ) اے ایمان والو! اپنے آپ کو سنبھالو اور رکھو، کہیں لوگوں کی گمراہی کا تم پر بھی اثر نہ ہو جائے اور تم ہدایت کے بعد دوبارہ گمراہ نہ ہوجاؤ اور یہ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ گمراہ لوگوں کو مسلسل امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو ورنہ تم خود ان سے متاثر ہو جاؤ گے۔
آج بھی اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ بات ہے کہ اپنی اصلاح کر لی جائے تو کافی ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں، اگر ایک مسلمان یہ فریضہ ترک کر دے گا تو اس کا تارک ہدایت پر قائم رہنے والا کب ہوگا؟ اگر آج اس کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے تو الحاد و بے دینی اور بے حیائی کا طوفان پوری امت کو تباہ کر دے گا۔
بنی اسرائیل کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی قوم ہلاکت سے محفوظ نہیں رہتی تاوقتیکہ وہ خود بھی عمل کرے اور اپنے بھائیوں کی اصلاح کے لیے بھی کوشش کرے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں جابجا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اہم فریضے کی تاکید و تلقین کی گئی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ''تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں''۔ (آل عمران۔۱۰۴)
یعنی نجات و فلاح کا دارومدار اسی بنیاد پر ہے کہ نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا، آج کے دور میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام مواصلات کی وجہ سے اور زیادہ آسان اور برق رفتار ہوگیا ہے، یہ کام اخبارات، رسائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک کم وقت میں پہنچایا جا سکتا ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فرض کو محسوس کریں جس کے لیے اس امت کی تخلیق کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرض کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
English translation
Abu Bakr al-Siddiq (RA) said (one day): "O people! You recite this verse, 'O you who believe, take care of your own souls; the one who goes astray cannot harm you when you are rightly guided.' Yet I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'When people see a wrongdoer (committing wrong) and do not seize his hands (to stop the wrong), it is likely that Allah will encompass them all in His punishment.'" (Abu Dawud, Tirmidhi, Nasa'i)

In this blessed hadith, Abu Bakr (RA) recited verse 105 of Surah al-Ma'idah of the Holy Qur'an and explained that people understand this verse to mean that as long as a person is himself on the right path it is not necessary for him to fulfil the duty of enjoining good and forbidding evil, since he need have no fear from the misguidance and sin of others, nor will he be questioned about it — so that the Muslim ummah is not responsible for enforcing the divine Sharia on earth but is only obliged to reform its own self. By relating the above hadith, Abu Bakr (RA) refuted this understanding, making clear that stopping evil as far as one is able is the responsibility of the ummah and the duty of every single individual, according to his capacity.

Not stopping it with the hand or the tongue is to invite the punishment and wrath of Allah. Having made the true meaning of this verse clear, Abu Bakr (RA) in effect said: O believers, take hold of yourselves and be watchful, lest the misguidance of others affect you too and you go astray again after guidance; and this is possible only by continually enjoining good and forbidding evil upon the misguided — otherwise you yourselves will be influenced by them.

Even today most people think that reforming oneself is enough and that enjoining good and forbidding evil is not necessary. If a Muslim abandons this duty, how will one who abandons it remain steadfast on guidance? If we do not feel its need today, the storm of atheism, irreligion, and immorality will destroy the entire ummah. The history of the Children of Israel bears witness that no nation is safe from destruction unless it both acts itself and strives for the reform of its brothers. In the Qur'an and the blessed ahadith the important duty of enjoining good and forbidding evil is repeatedly emphasised and urged. Allah Almighty says: "Let there be among you a group who call to good, enjoin what is right, and forbid what is wrong — and it is they who are the successful." (Al Imran 3:104)

That is, salvation and success rest upon this foundation of calling to good and restraining from evil. In today's world the work of enjoining good and forbidding evil has, thanks to modern communications, become far easier and swifter; through newspapers, magazines, and the internet it can be conveyed to more and more people in a short time. All that is needed is that we feel our duty, for which this ummah was created. May Allah grant us all the ability to fulfil the duty of enjoining good and forbidding evil. Ameen!
View original image
برائیوں کو مٹانے کی جدوجہد نہ کرنا عذابِ الٰہی کو دعوت دینا ہے