روزے دار کے لیے جنت کا مخصوص دروازہ
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: "جنت کے دروازوں میں ایک خاص دروازہ ہے جس کو "باب الریان" کہا جاتا ہے، اس دروازے سے قیامت کے دن صرف روزے داروں کا داخلہ ہوگا، ان کے سوا کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہو سکے گا، اس دن پکارا جائے گا کہ کدھر ہیں وہ بندے جو اللہ کے لیے روزے رکھا کرتے تھے اور بھوک پیاس کی تکلیف اٹھایا کرتے تھے، وہ اس پکار پر چل پڑیں گے، ان کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخلہ نہیں ہو سکے گا، جب روزے دار اس دروازے سے جنت میں پہنچ جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر کسی کا اس سے داخلہ نہ ہو سکے گا۔" (بخاری و مسلم)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے۔
"در حقیقت لوگوں کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھولے جا چکے ہوں گے، جنت کے خازن (فرشتے) ان کو کہیں گے سلام ہو تم پر بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔" (الزمر، ۷۳)
جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اور ان دروازوں کے الگ الگ نام ہیں اور ہر دروازے سے اس دروازے کے نام سے منسوب صفت رکھنے والے لوگ جنت میں داخل کیے جائیں گے، ان دروازوں میں (۱) باب الصلاۃ۔ یعنی اس دروازے سے بہت زیادہ نماز پڑھنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۲) باب الجہاد، یعنی اس دروازے سے اللہ کی راہ میں بہت زیادہ جہاد کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۳) باب الصدقہ، یعنی اس دروازے سے اللہ کی راہ میں بہت زیادہ مال خرچ کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۴) باب الحج، یعنی اس دروازے سے حج یا اشراق کی نماز کی بہت زیادہ پابندی کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۵) باب التوبہ، یعنی اس دروازے سے بہت زیادہ توبہ و استغفار کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۶) اسی طرح ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو غصہ کو ضبط اور دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنے والے ہوں گے۔ (۷) اسی طرح ایک دروازہ ایسا ہوگا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والوں کا داخلہ ہوگا۔ (۸) باب الریان یعنی اس دروازے سے روزے کی پابندی کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔
روزے میں جس تکلیف کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے اور جو روزے دار کی سب سے بڑی قربانی ہے وہ اس کا پیاسا رہنا ہے، اس لیے اس کو جو حوصلہ اور انعام دیا جائے اس میں سب سے زیادہ نمایاں اور غالب پہلو سیرابی کا ہونا چاہیے، اسی مناسبت سے جنت میں روزے داروں کے داخلے کے لیے جو مخصوص دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کی خاص صفت سیرابی و شادابی ہے، "ریان" کے معنی ہیں "سیراب یا سرسبز و شاداب" یہ وہ دروازہ ہے جس سے روزے داروں کو جنت میں اپنی اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے شراب طہور پلائی جائے گی، گویا کہ جس شخص نے یہاں دنیا میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر روزے رکھ کر پیاسا رہا وہ اس دروازے سے سیراب ہونے کے بعد جنت میں داخل ہوگا، اور اس سیرابی سے ایک ایسی کیفیت حاصل ہو جائے گی جس سے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لطف اندوز ہوتا رہے گا۔
"در حقیقت لوگوں کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھولے جا چکے ہوں گے، جنت کے خازن (فرشتے) ان کو کہیں گے سلام ہو تم پر بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔" (الزمر، ۷۳)
جنت کے آٹھ دروازے ہیں، اور ان دروازوں کے الگ الگ نام ہیں اور ہر دروازے سے اس دروازے کے نام سے منسوب صفت رکھنے والے لوگ جنت میں داخل کیے جائیں گے، ان دروازوں میں (۱) باب الصلاۃ۔ یعنی اس دروازے سے بہت زیادہ نماز پڑھنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۲) باب الجہاد، یعنی اس دروازے سے اللہ کی راہ میں بہت زیادہ جہاد کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۳) باب الصدقہ، یعنی اس دروازے سے اللہ کی راہ میں بہت زیادہ مال خرچ کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۴) باب الحج، یعنی اس دروازے سے حج یا اشراق کی نماز کی بہت زیادہ پابندی کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۵) باب التوبہ، یعنی اس دروازے سے بہت زیادہ توبہ و استغفار کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔ (۶) اسی طرح ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو غصہ کو ضبط اور دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنے والے ہوں گے۔ (۷) اسی طرح ایک دروازہ ایسا ہوگا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والوں کا داخلہ ہوگا۔ (۸) باب الریان یعنی اس دروازے سے روزے کی پابندی کرنے والے داخل کیے جائیں گے۔
روزے میں جس تکلیف کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے اور جو روزے دار کی سب سے بڑی قربانی ہے وہ اس کا پیاسا رہنا ہے، اس لیے اس کو جو حوصلہ اور انعام دیا جائے اس میں سب سے زیادہ نمایاں اور غالب پہلو سیرابی کا ہونا چاہیے، اسی مناسبت سے جنت میں روزے داروں کے داخلے کے لیے جو مخصوص دروازہ مقرر کیا گیا ہے اس کی خاص صفت سیرابی و شادابی ہے، "ریان" کے معنی ہیں "سیراب یا سرسبز و شاداب" یہ وہ دروازہ ہے جس سے روزے داروں کو جنت میں اپنی اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے شراب طہور پلائی جائے گی، گویا کہ جس شخص نے یہاں دنیا میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر روزے رکھ کر پیاسا رہا وہ اس دروازے سے سیراب ہونے کے بعد جنت میں داخل ہوگا، اور اس سیرابی سے ایک ایسی کیفیت حاصل ہو جائے گی جس سے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لطف اندوز ہوتا رہے گا۔
English translation
Narrated by Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah صلى الله عليه وسلم said: "In Paradise there is a special gate called 'Baab ar-Rayyan'. On the Day of Resurrection only those who fasted will enter through it; no one else will be able to enter by it. On that day it will be called out, 'Where are those who fasted for the sake of Allah and endured the hardship of hunger and thirst?' They will rise at that call, and none but them will be able to enter through that gate. When the fasting people have entered Paradise through it, the gate will be closed, and no one else will be able to enter by it." (Bukhari and Muslim)
Allah Most High says: "In truth, those who feared their Lord will be led group by group towards Paradise, until, when they reach it, its gates will have been opened and its keepers (the angels) will say to them: 'Peace be upon you, you have done well; enter Paradise to dwell in it forever.'" (Al-Zumar 73)
Paradise has eight gates, each with its own name, and through each gate will enter those who bore the quality associated with that gate: (1) Baab as-Salah — for those who prayed abundantly; (2) Baab al-Jihad — for those who strove much in the way of Allah; (3) Baab as-Sadaqah — for those who spent much wealth in the way of Allah; (4) Baab al-Hajj — for those constant in Hajj and in the Ishraaq prayer; (5) Baab at-Tawbah — for those who repented and sought forgiveness much; (6) a gate reserved for those who restrained their anger and forgave the faults of others; (7) a gate through which will enter those who remained content with the decree of Allah; and (8) Baab ar-Rayyan — for those who kept the fast.
The hardship felt most keenly in fasting, and the greatest sacrifice of the one who fasts, is remaining thirsty; so the reward and encouragement given for it should have quenching as its most prominent and dominant aspect. It is for this reason that the special gate appointed for the entry of the fasting people is characterised by satisfying refreshment and freshness. "Rayyan" means "well-watered, or fresh and verdant." Through this gate the fasting people will be given a pure drink to quench their thirst before they reach their stations in Paradise; so whoever remained thirsty here in the world, keeping the fast to please Allah, will enter Paradise after being fully quenched at this gate, and from that quenching will attain a state of delight in which he will forever revel.
Allah Most High says: "In truth, those who feared their Lord will be led group by group towards Paradise, until, when they reach it, its gates will have been opened and its keepers (the angels) will say to them: 'Peace be upon you, you have done well; enter Paradise to dwell in it forever.'" (Al-Zumar 73)
Paradise has eight gates, each with its own name, and through each gate will enter those who bore the quality associated with that gate: (1) Baab as-Salah — for those who prayed abundantly; (2) Baab al-Jihad — for those who strove much in the way of Allah; (3) Baab as-Sadaqah — for those who spent much wealth in the way of Allah; (4) Baab al-Hajj — for those constant in Hajj and in the Ishraaq prayer; (5) Baab at-Tawbah — for those who repented and sought forgiveness much; (6) a gate reserved for those who restrained their anger and forgave the faults of others; (7) a gate through which will enter those who remained content with the decree of Allah; and (8) Baab ar-Rayyan — for those who kept the fast.
The hardship felt most keenly in fasting, and the greatest sacrifice of the one who fasts, is remaining thirsty; so the reward and encouragement given for it should have quenching as its most prominent and dominant aspect. It is for this reason that the special gate appointed for the entry of the fasting people is characterised by satisfying refreshment and freshness. "Rayyan" means "well-watered, or fresh and verdant." Through this gate the fasting people will be given a pure drink to quench their thirst before they reach their stations in Paradise; so whoever remained thirsty here in the world, keeping the fast to please Allah, will enter Paradise after being fully quenched at this gate, and from that quenching will attain a state of delight in which he will forever revel.
View original image
#Fasting
#Group9
#Prayer
#Hajj
#Jihad
#Repentance
#Paradise
#Prophet
#Anger
#Judgement
#Greeting
#Angels
https://hadith.ahadees.com/hadees/912 — Ahadees.com